یہ واقع انڈیا کی ریاست اتر پردیش کے ضلع آگرہ میں میں پیش آیا جہاں ایک نجی ہسپتال نے فیس ادا نہ کرنے پر نوزائیدہ بچے کو فروخت کردیا۔
انڈین میڈیا کے مطابق ایک رکشہ ڈرائیور نے 24 اگست کو اپنی بیوی کو پرائیویٹ ہسپتال داخل کروایا جہاں اسے بیٹا پیدا ہوا۔ 25 اگست کو ہسپتال سے ڈسچارج کرتے ہوئے ڈاکٹر نے اسے 35 ہزار روپے کا بل تھمادیا۔ لیکن غریب رکشہ ڈرائیور کے پاس صرف 500 روپے تھے جس پر ڈاکٹر نے کہا کہ یا تو پیسے دو یا بچہ ۔
ہسپتال عملہ نے زبردستی ماں اور باپ کے انگوٹھے لگا کر انہیں 65 ہزار روپے دے کر ہسپتال سے بھگادیا ۔ غریب رکشہ ڈرائیور نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے نومولود بیٹے کو ایک لاکھ روپے میں فروخت کیا گیا ہے۔
جب اس معاملہ کی اطلاع محکمہ صحت کو ملی تو انہوں نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے ہسپتال کو سیل کردیا جبکہ بچے کی بازیابی کے حوالے سے کارروائی جاری ہے۔




No comments:
Post a Comment