سہانجنا عرف مورنگا کاشتکاروں کی قسمت بدل سکتا ہے - Amazing

تازہ ترین

Home Top Ad

Post Top Ad

Thursday, August 27, 2020

سہانجنا عرف مورنگا کاشتکاروں کی قسمت بدل سکتا ہے


سہانجنا جسے مورنگا بھی کہا جاتا ہے ماہرین زراعت کے مطابق یہ پودا  بے شمار خوبیوں سے مالا مال ہے اور اس کی کاشت سے کسان اپنے ساتھ ساتھ ملک کی تقدیر بھی بدل سکتے ہیں

 اس  پودے میں پروٹین کی مقدار  دہی اور دودھ سے دو گنا زیادہ  ہے،وٹامن اے کی مقدار  گاجر سے چارگنا زیادہ ، وٹامن سی کی مقدارسنگترے سے سات گنا زیادہ ، پوٹاشیم کی مقدار کیلے سے تین گنا زیادہ ہے اس کے علاوہ اسے ادویات سازی ، صنعتی مقاصد ،کاسمیٹکس ، اشیائے خوردنی میں بھی بھر پور استعمال کیا جاتا ہے۔

 امریکہ میں اس کے اس کے بیجوں کا تیل ککنگ آئل کے طور پراور آئل نکالنے کے بعد جو بیج بچ جاتے ہیں انہیں پانی کو صاف کرنے کے لئے استعمال کیا جاتاہے جبکہ اس کے پتے چائے کے طورپر استعمال کیے جاتے ہیں ۔


ماہنامہ عبقری  مارچ 2018 میں سہانجنہ سے متعلق شائع ہونے والا مضموں 

معجزاتی درخت سہانجنہ! 300بیماریوں کا مکمل علاج

ماہنامہ عبقری - مارچ2018ء

اس کے خشک پتوں کا قہوہ پریشانیوں اور دباو میں سکون بخشتا ہے اور بھرپور نیند لاتا ہے۔ قبض کے مریضوں کےلئے آب حیات ہے ۔ خون کی کمی کی وجہ سے چہرے کی چھائیوں میں تیر بہدف ہے ۔ کسی طرح کی کمزوری کا واحد علاج ہے ۔ حاملہ عورتوں سے لے کر بچوں تک استعمال کر سکتے ہیں
یہ درخت اردو میں سہانجنہ اور انگریزی میں ہارس ریڈش یامورنگا کہلاتا ہے ۔ اس کے اور بھی مختلف نام ہیں مثلا ً مورنگا ‘ مورنگا اولیفیرا ‘ ڈرم اسٹک اور بین آئل ۔اس درخت کے متعلق ایک مضمون عبقری کے دسمبر 2016 ء کے شمارے میں جھنگ سے غلام قادر ہراج صاحب نے لکھا تھا جس میں انہوں نے اس درخت کے فوائد پر بہت معلومات فراہم کی ہیں اور مختلف بیماریوں کے لئے اس کا استعمال بتایا ہے ۔اس مضمون کی اشاعت کے بعد میں نے جب پڑھا تو سوچا کہ اس کی مکمل تفصیلات شائع نہیں ہوئی ۔ در حقیقت مورنگا جو کہ ہمارے ہاں سہانجنہ کے نام سے جانا جاتا ہے ایک ایسا درخت ہے جو کہ پاکستان میں پشاور سے کراچی تک بکثرت پایا جاتا ہے ۔ یہ خود رو بھی ہے اور گھروں کھیتوں میں کاشت بھی کیا جاتا ہے ۔ سہانجنا گرم ماحول اور ریتلی زمین میں آسانی سے کاشت ہوتا ہے ۔ بہاول پور کے علاقے میں خود رو درختوں کے جنگل ہیں ۔ اس درخت کی اونچائی 40 تا 25 فٹ تک ہوتی ہے ۔ پھل اور پھول بکثرت سال میں 3 ۔ 2 دفعہ لگتے ہیں لکڑی نرم و نازک اور پھلیاں تقریبا ً ایک فٹ لمبی اور انگلی کے برابر موٹی ہوتی ہیں ۔ 
سہانجنا کے بیج
بیج پکی ہوئی پھلیوں سے خود بخود نکل آتے ہیں ۔ بیج کے اوپری سطح پر 3 عدد سفید رنگ کے کاغذ نما ’پر ‘ ہوتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قدرت اس کا وسیع پیمانے پر ہوا یا پانی کے ذریعے پھیلاو چاہتی ہے ۔ براون رنگ کی اوپری سطح کے نیچے ایک سفید رنگ کا بیج ہوتا ہے جس کے اندر اس کا تخم پایا جاتا ہے ۔
سہانجنا آئل
سہانجنا کے بیجوں کا تیل بے بو ‘ بے ذائقہ اور مدت تک پڑا رہنے سے خراب نہیں ہوتا ۔ گھڑی کے پرزوں کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ فوڈ سپلمینٹ ‘ مختلف کاسمیٹک ‘ بالوں اور جلدی امراض میں استعمال کیا جاتا ہے ۔
سہانجنا کا دیسی استعمال
اس کا مزاج گرم و خشک بدرجہ سوم ہے ۔ مدر بول اور ہاضم ہونے کی وجہ سے اس کی جڑ کا پانی دودھ میں ملا کر پلایا جاتا ہے ۔ اندرونی اورام ‘ ورم تلی ‘ ضعف اشتہا ‘ دمہ اور نقرس میں فائدہ کرتا ہے ۔ گردہ اور مثانہ کی پتھری توڑتا ہے ۔ جڑ کے جوشاندے سے گلے کی سوزش دور ہوتی ہے ۔ خام پھلیوں کا اچار سرکہ میں جوڑوں کے درد ‘ کمر درد اور فالج لقوہ کےلئے مفید ہے ۔ 
سہانجنا نئی تحقیق کی روشنی میں
سہانجنا 300 بیماریوں کا مکمل علاج ہے جو کمی کسی نہ کسی غذائی وجہ سے ہوتی ہیں ۔ اس کے خشک 50 گرام پتے ‘ 8 مالٹے ‘ 8 کیلے ‘ دو پالک کی (4 انچ کی) گڈیاں ‘ دو کپ دہی ‘ 18 امینو ایسڈ ‘ 36 وٹامن اور 92 اینٹی اوکسیڈنٹ کی طاقت کے برابر ہیں ۔امریکہ میں 25 ڈالر میں ایک پاونڈ سہانجنے کے پتوں کا خشک پوڈر ملتا ہے ۔ سادھو لوگ جو انڈونیشیا اور ملائشیا کے جنگلات میں پیدل چلتے ہیں ان کی خوراک خشک پتے ہوتے ہیں ۔ صبح ہتھیلی بھر کر پانی کے ساتھ یہ کھاتے ہیں اور دن بھر کسی چیز کی ضرورت یا طلب نہیں ہوتی اور نہ ہی کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ یہ سادھوؤں کی خوراک ہے ۔ امریکہ سے یہ اطلاعات پہنچانے والے ہمارے ان محسن کے ایک عزیز کی والدہ صاحبہ پاکستان میں مقیم ہیں جن کی عمر 86 برس ہے ۔ جسم میں کمزوری کی وجہ سے کھڑا ہونا مشکل تھا جب ان کو استعمال کرایا گیا تو وہ بالکل ٹھیک ہو گئیں اور رمضان کے پورے روزے رکھے ۔ بعد میں خاندان کے 21 آدمیوں کی شوگر کنٹرول کر کے صحت مند بنایا ۔ لاہور کے ایک حکیم صاحب نے 300 گرام سہانجنہ پاؤڈر کے 6000 روپے ذیابیطس کے علاج کےلئے لینا شروع کر دیئے ۔ فیصل آباد زرعی یونیورسٹی اس کا لٹریچر عوام میں تقسیم کر رہی ہے اور مفت بیج بھی دیئے جا رہے ہیں ۔اس کے خشک پتوں کا قہوہ پریشانیوں اور دبائو میں سکون بخشتا ہے اور بھرپور نیند لاتا ہے۔ قبض کے مریضوں کےلئے آب حیات ہے ۔ خون کی کمی کی وجہ سے چہرے کی چھائیوں میں تیر بہدف ہے ۔ کسی طرح کی کمزوری کا واحد علاج ہے ۔ حاملہ عورتوں سے لے کر بچوں تک استعمال کر سکتے ہیں اس طاقت کے خزانے کو عمر بھر دوا اور غذا کے طور پر گھروں میں رواج دیا جا سکتا ہے۔
 طریقہ استعمال
سہانجنے کے خشک یا ہرے پتوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ خشک پتوں کا قہوہ بنایا جاتا ہے ہرے پتے پالک کے ساگ کی طرح ابال کر اور نمک مرچ لگا کر کھایا جاتا ہے۔ چٹنی جس میں انار دانہ‘ پودینہ‘ ہری مرچ اور سہانجنا کے سبز پتے شامل ہوں کو کھانے کے دوسرے لوازمات کے ساتھ اس کا استعمال الگ ہی مزہ دیتا ہے۔ پتوں کے خشک پائوڈر کو کسی بھی مائع 
شے پانی‘ دودھ‘ دہی‘ لسی وغیرہ سے لیا جاتا ہے ۔ جب اس کے پتوں کو استعمال میں لایا جائے چاہے وہ قہوہ ہو یا پاوڈر کی شکل میں تو بھی چکن گونیا میں اس کی افادیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔
چکن گونیا کا ہومیو پیتھک علاج
یہ مرض مچھر اور گندگی کی وجہ سے کراچی میں عام ہے ۔ چکن گونیا کا ہومیو پیتھک علاج کیا جائے تو جلد آرام آ جاتا ہے ۔1 ۔ برائی اونیا 200 صبح ۔2 ۔ بیلا ڈونا 200 دوپہر ۔3 ۔ یو پے ٹوریم پرف 200 شام ۔یہ تینوں ادویات الگ الگ ایک ایک ڈرام گولیوں میں کسی اچھی ہومیو فارمیسی سے بنوا لیں اور دی ہوئی ترکیب کے مطابق دن میں صرف ایک دفعہ چند گولیاں چوس لیں۔ ایک ہفتہ کے بعدعلاج ختم کردیں انشاء اللہ مرض جاتا رہے گا ۔
رضوان احمد طارق صاحب کا روزنامہ جنگ میں سہانجنہ کی افادیت سے متعلق شائع ہونے والا مضمون
براعظم افریقا کے مغربی حصے میں سینیگال واقع ہے ۔ اس زمانے میں وہاں شدیدقحط پڑا تھا ۔جب تک اقوام عالم غذائی امداد فراہم کرتیں،ہزاروں لوگ بھوک اور بیماریوں کا شکار ہوکر موت کے منہ میں جاچکے تھے۔ خوراک کی کمی کی وجہ سے لوگ طرح طرح کی بیماریوں کا شکارتھے۔ قحط کا شکا ر صرف انسان ہی نہیں جانور بھی تھے ۔ تیسری دنیا کے زیادہ تر ممالک کی طرح سینیگال کی حکومت بھی غیر ملکی امداد کی منتظر تھی۔ ایسے میں ورلڈ چرچ سروس کے ذیلی ادارے بھوک کا خاتمہ بہ ذ ریعہ تعلیم  کی طرف سے امریکاسےفوگلی نامی شخص وہاں پہنچا۔ وہ پیشے کے لحاظ سے زراعت کا پروفیسر تھا۔اس نے بھوک کے مارے مقامی لوگوں سے جب یہ کہا کہ میں آپ کو ایک ایسی تعلیم دوں گا جِس سے آپ کی غذائی قلت میں کمی ہوسکتی ہےتوانہوں نے ناراضی کا اظہار کیا۔ فوگلی کا کہنا تھا کہ چرچ کی تنظیم نے اس سے خوراک بانٹنے کے لیے کہا تھا، مگر میں نے کہا کہ خوراک تو چند روز میں ختم ہو جائے گی ۔ میں آپ کے لیے آٹا ، پانی ، چاول وغیرہ لے کر نہیں آیا ہوں اور نہ ہی میرے پاس آپ کودینے کے لیے رقم ہے ۔ مگرمیں آپ لوگوں کو فائدے کی بات بتاؤں گا۔اس کا کہنا تھا کہ میں آپ کے لیے ایک کرشماتی پودا لے کر آیا ہوں جو آپ لوگوں کی غذائی قلت دور کر سکتا ہے اور آپ کے جانوروں کی بھی۔ یہ کہہ کر اس نے اپنے ٹرک کا دروازہ کھولا تولوگوں نے دیکھا کہ وہ ایک ہی قسم کے پودے کے گملوں سے بھراہوا تھا ۔
خوراک کے منتظر لوگوں کی ناراضی کو محسوس کرتےہوئےفوگلی نے کہا کہ ابھی کچھ ہی دیر میں اقوام متحدہ کی طرف سے خوراک کے ٹرک بھی آنے والے ہیں ،مگر وہ خوراک چند دنوں یا ہفتوں میں ختم ہو جائے گی۔ لیکن اگریہ پودا ایک دفعہ لگالو گے تویہ ہمیشہ تمہارا ساتھ دیتا رہے گا اورتمہاری نسل در نسل خدمت کرے گا۔ لوگ ناراض ہوکر وہاں سے چلے گئے ۔ لیکن اسے جو کرنا تھا وہ کرتا رہا۔ وہ اپنے رضا کاروں کے ساتھ پورے گاؤں میں پودے لگا رہا تھا۔ ایک گھرمیں پودا لگاتے ہوئے اس نے پانی کا گھڑا دیکھا توخاتونِ خانہ سے پوچھا کہ کیا میں اِس سے پانی لے سکتا ہوں ؟ خاتون نے جواب دیا کہ یہ پانی صاف نہیں ہے۔ اسے پی کر تم بھی ہماری طرح بیمار ہو جاؤ گے۔ فوگلی نے پانی شیشےکے دو جگوں میں انڈیلا۔ایک تھیلے سے کچھ بیج نکالے اورخاتون سے ہاون دستہ مانگا۔ وہ حیرت سے فوگلی کی حرکتیں دیکھ رہی تھی۔فوگلی نے بیج کُوٹ کراُن کا سفوف بنایا اور چٹکی بھر ایک جگ میں ڈال کر خوب ہلایا اور دوسراجگ ویسے ہی رہنے دیا۔پھر اس نے خاتون سے کہا کہ دیکھتی جاؤ کیا ہوتا ہے۔اتنے میں میں مزید پودے لگاکر آتا ہوں۔
جادو ،جادو
کچھ ہی دیر کے بعد وہ عورت گھر کے دروازے پر کھڑی چِلّا رہی تھی:جادو، جادو۔ لوگ اُس کی آواز سُن کر بھاگتے ہوئےاس کے پاس پہنچےتو اس نے انہیں بتایا کہ اُس سفید چمڑی والے نے بیج کا سفوف اِس پانی میں ڈالا تو دیکھو یہ بالکل صاف ہو گیا اور دوسرا ویسا ہی گدلا ہے۔ابھی لوگ یہ حیرت انگیز منظر دیکھنے میں مصروف تھے کہ فوگلی وہاں آن پہنچا اور مسکراتےہوئے بولا دیکھا کمال اِس پودے کا؟ اِس کے بیج کا سفوف ڈالنے سے پانی بالکل صاف ہو جاتا ہے۔ مٹی، نقصان دہ اجزاء اور جراثیم نیچے بیٹھ جاتے ہیں اور پینے کے لیے بہترین پانی تیا ر ہو جاتا ہے۔ پانی کو اِس سے صاف کر کے پیو اور صحت مند ہو جاؤ۔ یہاں زیادہ تر بیماریاں آلودہ پانی پینے کی وجہ سے ہیں۔
قدرت کا انمول خزانہ
اقوام متحدہ کی جانب سے بھیجی گئی خوراک کھا کر جب لوگوں میں کچھ طاقت اور آسودگی آگئی ۔ پھر پانی والے واقعے کی وجہ سے لوگ اب فوگلی کی طرف متوجہ ہو گئے ۔ اس نے انہیں بتایا کہ اس پودے کو زمین میں بوئیں تو یہ ایک ڈیڑھ سال ہی میں چھوٹا سا درخت بن جاتا ہے اور دو سال میں اچھا بھلا درخت ۔ قدرت نے اس درخت کے ہر حصے میں کمال کی غذائیت اور طبی افادیت رکھی ہے جو دنیا کے شاید ہی کسی منہگے سےمنہگے پھل یا اناج میں ہو ۔اِس کے صرف 50گرام خشک پتے کا سفوف کھانے سے پورے دن کے لیے اہم غذائی اجزاء،مثلا پروٹین ، کیلشیم ، پوٹاشیم او ر وٹامنز کی زیادہ تر ضروریات پوری ہو جاتی ہیں۔ اس میں ایسے جراثیم کش عناصر بھی پائے جاتے ہیں جو ہیضے، ٹی بی ، ایڈز ، ذیابطیس ، امراضِ قلب وغیرہ میں مفید ہیں۔ لوگ حیرت سے فوگلی کی باتیں سُن رہے تھے۔ اُس نے انہیں مزید بتایاکہ اس میں اتنے طاقت ور غذائی اور طبی عناصر ہیں کہ انسان کی کھوئی ہوئی طاقت اور صلاحتیں چندہی دنوں میں لوٹ آتی ہیں۔ اِس کے پتے،پھول،پھلیاں، جڑیں،چھال اور بیج، سب خود بھی کھاؤ اور اپنے جانوروں کو بھی کھِلاؤ۔ یہ قدرت کا انمول خزانہ ہے۔
ایک بوڑھے دیہاتی نےاس پودے کے پتوں کو غور سے دیکھتے ہوئے کہاکہ ہمیں بے و قوف مت بناؤ۔یہ درخت تو ہمارے گاؤں میں بھی ہے اورعلاقے میں کافی پائے جاتے ہیں۔ جب اس پر پھول آتے ہیں تو ہم انہیں پکا کر کھاتے ہیں۔ہمارے بڑے اِس کی چٹنی بنا تےتھے اور حکیم اِس سے ادویات بناتے ہیں۔ مگر ہمارے بڑوں کو تو یہ سب نہیں پتا تھا۔اس کے جواب میں فوگلی نے کہا کہ ہاں یہ پود ا افریقا میں بھی بہ کثرت پا یا جاتا ہے۔ مگر لوگوں کو اس کی اہمیت کا پوری طرح سے ادراک نہیں ۔ پھر اس نے گاوں میں ایسے درخت دیکھے تو لوگوں سے کہا کہ اس کے پتے اپنے جانوروں کو دوسرے چاروں کے ساتھ کھلاوتو وہ صحت مند ہو جائیں گے ، دودھ کا معیار بہتر اور مقدارزیادہ ہوجائے گی۔ چناں چہ تجربے کے طورپر دیہاتیوں نے اس درخت کےپتّے جانوروں کو چارے کے طور پر کھِلانے شروع کر دیے ۔پھر لوگ اپنے بڑے بوڑھوں کے طریقوں اور فوگلی کی ہدایات کے مطابق خود بھی استعمال کرنے لگے۔ صرف چند ہفتوں کے استعمال سے گاؤں کے لوگ اس کرشماتی پودے کی طبی اور غذا ئی اہمیت کے قائل ہوگئے۔ لوگوں اور مویشیوں کی صحت بہتر ہونا شروع ہو گئی۔ فوگلی نے لوگوں کو اس کے پتّوں سے مختلف پکوان بنانا سکھائے اورپتّوں کو خشک کرکے محفوظ کرنے کا طریقہ بتایا ۔ دیہاتیوں کے لیے سب سے حیرت انگیز استعمال پینے کے پانی کو صاف کرنا تھا۔وہ اس درخت کے بیج کا پاوڈربناکر گھڑےمیں ڈالتے توپانی چند گھنٹوں میں بالکل صاف ہوجاتا۔ یہ پانی پینے سے لوگوں کے معدے کے امراض بھی دور ہوگئے ۔
کرشماتی درخت کا چرچا
پھر اس گاوں کےبہت سےافراد فوگلی کے رضا کا ر و ں کی ٹیم میں شامل ہو گئے اور آس پاس کے دیہات میں لوگوں کو اِس درخت کی اہمیت اور افادیت سے آگاہ کرنے کے لیے کام کرنے لگے۔ یوں رفتہ رفتہ علاقے میں اس کرشماتی درخت کا چرچا ہونے لگا ۔ گاؤں گاؤں لوگ فوگلی کے رضا کار بنتے گئے اوراس درخت کی اہمیت اور استعمال سے آگاہ ہونے اور دوسروں کو کرنے لگے ۔ نئے پودے لگانا بھی اُن کی مہم کاحصہ تھا ۔چناں چہ چند ہی ماہ میں ایک شخص کی کوشش سے پورے علاقے کے لوگوں میں غذائی قلت کی صورت حال بہتر ہوگئی۔ پھر شاید ہی سینیگال کا کوئی گھر بچا ہو گا جہاں یہ درخت نہ ہو۔ فوگلی نے وہاں اس منصوبے پر 1997سے 2004تک کام کیااور سینیگال میں بہت نمایاں غذائی تبدیلی لایا۔
کہانی نہیں حقیقت
یہ کوئی کہانی نہیں بلکہ حقیقت ہے۔اور حقیقت بھی ایسی جو آزمایش کے لیے ہمارے ارد گرد موجود ہے۔اس پودے کو اردو میں سُہنجناکہا جاتا ہے،اس کا غلط العام تلفّظ سُہانجنا ہے۔اس کی پھلیوں کو بہت سے افراد سیجن یا سجنے کی پھلیاں کہتے ہیں۔ملک کے مختلف علاقوں میںاس کی پھلیاں اورپھول مختلف طریقوں سے پکائے جاتے ہیں ۔ بعض علاقوں میں اس کی جڑ سے اچار بھی بنایا جاتا ہے۔ یہ پاکستان کے تقریبا ہر علاقے میں پایا جانے والا پوداہے لیکن ہم اس کی اہمیت اور افادیت سے پوری طر ح آگاہ نہیں ہیں۔ تاہم پوری دنیا اس سے بھوک، افلاس اور غذائی قلت ختم کر رہی ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے زیادہ تر علاقوں میںیہ بہ تدریج ختم ہو رہاہے ۔جنوبی پنجاب میں اگرچہ یہ عام ہے، مگر اِس کا استعمال صرف اس کے پھولوں کا لذیذ سالن اور جڑوں سے اچار بنانے تک محدود ہے۔ لوگوں کو اس کے غذائی،طبّی چار ےکے طورپر استعمال اور دیگر فوائد کا علم ہی نہیں ہے ۔ ماہرینِ نباتات کے مطابق یہ درخت اس خطے سے پوری دنیا میں پھیلا اور کرشماتی پودے Miracle Tree کے نا م سے مشہور ہوا۔ اِسے ناسا نےاکیسویں صدی کا درخت قرار دیاہے ۔اس کے پتوں میں وٹا من اے گاجر سے 4گنا ، وٹا من سی مالٹے سے 7گنا ، پروٹین دہی سے دو گنا ، کیلشیم دودھ سے دوگنا، پوٹاشیم کیلے سے 3گنا زیادہ ہوتاہے۔اس پر تحقیق کرنے والے ماہرین کے مطابق اس درخت میں سرطان ،تپِ دق،ہپاٹائیٹس، ذیابطیس وغیر ہ سے بچاؤ کے لیے بے شمار اینٹی بائیوٹک،اینٹی الر جک اور دیگر ادویاتی اجزاءپائے جاتے ہیں۔ اس کے بیج کا تیل زیتون کے تیل کی طرح بہترین کھانے کا تیل ہے ۔اس کے پھول اور پھلیاں غذائیت سے بھر پور اور لذیذ ترین سبزیاں ہیں۔اس کے پتّوں کا عرق فصلوں پر اسپر ے کرنے سے پیداوارچالیس فی صد تک بڑھ جاتی ہے اورفصلوں میں موسمی اور فضائی سختیوں کے خلاف قوت مدافعت بھی بڑھ جاتی ہے۔اسے چارے کے طورپر استعمال کرنے سے جانوروں کا دودھ تیس تا چالیس فی صد بڑھ جاتاہے اور انہیں کسی قسم کے کھل یا بنولے کی ضر و ر ت نہیں رہتی ۔اس کے بیج سے پینے کا پانی صاف کیا جاتا ہے جس سے بیش تر جراثیم مر جاتے ہیں اورمٹی اور نقصان دہ دھاتیں نیچے بیٹھ جاتی ہیں ۔ ترقی یافتہ دنیا میں سُہنجنا سے قدرتی غذائی ٹانک،انرجی ڈرنکس، ادویات اور میک اپ کا سامان بنایا جاتا ہے۔ اِس کے تیل سے گاڑیوں کا ایندھن بھی بنایا جا رہا ہے ۔ غریب ممالک میں اِس کے خشک پتّوں کا سفوف غذائی کمی پورا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
مقامی درخت ،عالمی شہرت
اسے اردو میں سُہنجنا، بنگالی میں مورونگا ،پنجابی میں سونجنہ ، سنسکرت میں سوبھانجنہ اور انگریزی میں مورنگا ۔اصل وطن جنوبی پنجاب بتایا جاتاہے اور کہا جاتا ہے کہ یہیں سے یہ پورے برصغیر اور بعد میں دنیا کے دیگر علا قو ں میں پہنچا ۔ یہ پاک وہند اوربنگلا دیش میں ہمالیہ سے ملحق علاقوں میں ،برما ،سری لنکا اور مشرق بعید کے ممالک میں عام پایا جاتا ہے ۔یہ براعظم افریقاکے بعض ممالک میں بھی ملتا ہے۔پاکستان میں پنجاب اور سندھ میں اس کے درخت عام طور پر پائے جاتے ہیں۔ لیکن جنوبی پنجاب میں باقی علاقوں کی نسبت بہ کثرت پائے جاتے ہیں ۔ گرم اور معتدل علاقوں میں خوب پرورش پاتا ہے ، یعنی ایسے علاقےجہاں کا درجہ حرارت 18سے 48 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان ہو اوربارش کا تناسب 250سے 1500 ملی میٹرز سالانہ تک ہو ۔یہ خشک اور آبی زمینوں پر بہت تیزی سے اُگنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور5.4سے 9 تک کی اساسی سے تیزابی( پی - ا یچ ) کیفیت برداشت کرلیتاہے۔اس کی کاشت بیج اور تنے دونوں سے کی جا سکتی ہے۔
دنیابھر میں اس کی تیرہ اقسام پائی جاتی ہیں ۔ ان 13 میں سے 2 اقسام پاکستان میں پائی جاتی ہیں  ۔مورنگا اولیفیرا ، مورنگا اسٹینوپیٹالا اور مورنگا پیرگرینا،یہ تینوں انواع خورنی طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ دیگر انواع مقامی طور پر طبی استعمال میں آتی ہیں۔ان میں مورنگا اسٹینوپیٹالا کے پودے شمال مغربی کینیا میں ترکانہ جھیل کے اردگرد اور جنوب مشرقی ایتھوپیا میں کاشت کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس نوع کے درخت نسبتاًکم تعداد میں شمالی ایتھوپیا میں کونسو لوگوں کے علاقے میں بھی پائے جاتے ہیں۔ ان تمام انواع میں مورنگا اولیفیرا سب سے بہتر ہے اور تمام انواع میں فوقیت رکھتا ہے ۔
پاکستان میں اس کے کرشماتی خواص متعارف کرانے کا سہرا زرعی یونیورسٹی ،فیصل آباد میں شعبہ کراپ فزیالوجی کے پروفیسرڈاکٹر شہزاد بسرا کے سر ہے ۔وہ بائیس برس سےپاکستان میں متبادل فصلوں پر کام کررہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں قینوا اورمورنگاپرکام شروع کیا ۔ انہوں نے اس روایتی درخت کو نہ صرف نئے سرے متعارف کرایا بلکہ اس کی شجر کاری اور کاشت کی ترغیب دے کر ملک کے کونے کونے میں پھیلانے کا کا م وہ بہت تن دہی سےکررہے ہیں ۔چناںچہ اب کلر والی زمین پر بھی اس کی کاشت کی جا رہی ہے۔جہاں دوسری فصلیں نہیں اگ سکتیں۔
ہر حصّہ فائدے مند
سُہنجناکے درخت کو اگر بڑھنے دیا جائےتو یہ 10 سے 12 میٹرز(32 سے 40 فٹ )تک بلند اور1.5 فیٹ تک موٹا ہو سکتا ہے۔اس کا تنا 4 سے 5 فیٹ تک سیدھا جاتا ہے ،پھر اس کی شاخیں نکلتی ہیں ۔اس کی ہر شاخ پر کئی چھوٹی شاخیں ہوتی ہیں ۔تنے کی چھال ملائم اور بھورے رنگ کی ہوتی ہے۔پتے عموما 25 سے 50 ملی میٹرز لمبے ہوتے ہیں۔ پھول سفید رنگ کے ، خوش بوداراور 1.5 سے 2 ملی میٹر زلمبے ہوتے ہیں ۔ پھلیاں 15 سے 30 ملی میٹرز لمبی ہوتی ہیں۔ بیج سہ گوشہ ہوتے ہیں۔ لکڑی بہت نرم و نازک اور جلد ٹوٹنے والی ہوتی ہے ۔ فروری کے مہینے میں اس درخت پر گچھوں کی شکل میں سفید رنگ کے پھول بہ بکثرت لگتے ہیں اور مارچ تک یہ درخت پتلی پتلی، گول اور لمبی پھلیوں سے لد جاتا ہے ۔ اس کے بیج بھورے رنگ کے ہوتے ہیں۔
جنوبی پنجاب میں اس کی ان کھلی کلیاں ، کچنار کی کی طرح پکا کر بہت شوق سے کھائی جاتی ہیں ۔ یہ پھلیاں گوشت میں ڈال کر بھی پکائی جاتی ہیں ۔ یہ درخت جب ایک یا دو سال کا ہوتا ہےتو اس کی جڑ بے ریشہ ، سفید رنگ کی مولی کی طرح مخروطی شکل کی ہوتی ہے۔ ان جڑوں (جنہیں سُہنجناکی مولی کہا جاتا ہے ) کو نکال کر اچار ڈالا جاتاہے جوملک کے مختلف علاقوں، خصوصا پنجاب بھر میں کافی معروف ہے۔ یہ اچار بلغمی امراض میں مفید ہے۔ پیشاب آور ہے اور پتھری کو توڑتا ہے۔ بعض علاقوں میں اس کی پھلیوں اورپھولوں کا اچار بھی ڈالا جاتا ہے۔
طبّی استعمال
یہ چوں کہ یہاں کا مقامی درخت ہے اس لیے اسے مختلف امراض میںبہ طور علاج بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔ دیسی طریقہ علاج،جسے عرفِ عام میں طبِ یونانی کہا جاتا ہے ،میں یہ زیادہ معروف نہیں۔تاہم آیورویدک طریقہ علاج میں اسے کافی استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اس کا طبی استعمال کافی محدود ہے ۔اس کےبیجوں میں 30 سے 40 فی صد تیل ہوتا ہےجسے بیجوں کو دبا کر(بہ ذریعہ کولہو)حاصل کیا جا تا ہے۔اس کا تیل جسے بن آئل بھی کہا جاتا ہے ، زرد رنگ کا چمک دار صاف شفاف تیل ہے ۔یہ قدرتی طور پر کا فی دیرپا ہوتا ہےجو کم از کم پانچ سال تک خراب نہیں ہوتا ۔یعنی اس کی شیلف لائف دیگر تیلوں کےمقابلےمیں کافی زیادہ ہے ۔ یہ نہایت طاقت ور دافع تکسید (اینٹی آکسیڈینٹ )ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ یہ جلدتکسید( آکسیڈیشن) سے متاثر نہیں ہوتا۔ دنیابھرمیں ادویہ سازاذارے،کاسمیٹکس اور لبریکینٹس انڈسٹریز، آئل فیکٹریز، بایو ڈیزل پلانٹس اور بہت سی دیگر صنعتیں اس سے مستفید ہو رہی ہیں۔




جدید سائنسی تحقیق نے یورپ اور امریکا میں اس درخت کی دھوم مچائی ہوئی ہے۔ ماہرین غذائیات اور فوڈ سائنس کے ماہرین اس کی کرشماتی صفات پر حیران ہیں۔ اس کے پتوں کے ایکسٹریکٹ سے تیار کردہ کیپسول، گولیاں اور فوڈ سپلیمنٹ دھڑا دھڑ بک رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ کم و بیش تین سو قابلِ علاج اور لاعلاج بیماریوں کا علاج ہے اوراور درجنوں ایسے امراض کا علاج مہیا کرتا ہے جو ایلوپیتھک طریقہ علاج میں موجود نہیں۔ سُہنجنا کے استعمال سے کوئی بُرا ردِ عمل  بھی نہیں ہوتا۔
یہ بھارت،پاکستان اور افغانستان میں ہمالیہ پہاڑ کی شاخوں کے قریبی علاقوں میں اُگنے والا درخت ہے۔ جدید تحقیق بتاتی ہے کہ یہ نامیاتی  قدرتی برداشت  اور طاقت کا ضمیمہ ہے۔ اس کی پھَلیاں اور جڑیں بھی مفید ہیں لیکن سب سے زیادہ کار آمد اس کے پتے ہیں۔ یہ بچوں،جوانوں اوربُوڑھوں کے لیےبھی مفیدہے۔سُہنجناکا استعمال یادداشت  کو بھی بہتر بناتا ہے۔عالمی ادارہ صحت  اسے چاردہائیوں سے بطور سَستا ضمیمہ صحت استعمال کر رہا ہے۔
کاشت اور فوائد
اس پودے کو با آسانی بیج یا قلم سے کاشت کیا جاسکتا ہے ۔ یہ ایک سال میں 10سے 15فیٹ کا درخت بن جاتا ہے۔اس پر سال میں ایک دفعہ پھول آتے ہیں جو بعد میں پک کر پھلیوں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں ۔ ایک درخت کی پھلیوں سے آٹھ سے دس ہزار بیج حاصل ہوسکتے ہیں جن سےسُہا نجنا کو فصل کے طور پر بھی کاشت کیا جاسکتا ہے ۔ بیج کو کپاس اور مکئی کی طرح ایک فٹ کے فاصلے پر لگایا جاتا ہے ۔ جب یہ پودے تین فیٹ پر پہنچ جائیں تو انہیں اوپر سے کاٹ دیا جاتاہے پھر بار بار 10سے 20دن کے وقفےسے اس کے پتے بطور چارہ یا فصلوں پرا سپرے کے لیے کاٹ کر استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ دسمبرسے مارچ تک اس کے پتوں کی نشوونما رک جاتی ہے۔تاہم باقی سارا سال اس سے پتے مہیا ہوتے رہتے ہیں۔ اس کے پھول اور کونپلیں بھی سبزی کے طور پر پکانے کے کام آتی ہیں۔پتوں کی چٹنی اور سوپ بھی بہت مزے دار اور توانائی بخش ہوتاہے۔اس کے استعمال سےچہر ےپر جھریاں نہیں پڑتیں اور بڑھاپا دور بھاگتاہے۔ سب سے زیادہ غذائیت اس کے تازہ پتوں میں ہے جو دیگر پتوں والی سبزیوں میں شامل کرکے پکائےجاتے ہیں۔ تاہم اس کی کڑواہٹ کم کرنے کے لیے پتوں کو ابال کر پانی نکال دیا جائے تو بہتر ہے ۔ دنیا میں سب سے زیادہ غذائی استعمال اس کے خشک پتوں کا بہ طور سفوف ہے ۔ پتوں کو چھاوں میں خشک کر لیا جاتا ہے جسے بعد میں پیس کرہوا بند مرتبان میں محفوظ کر لیا جاتاہے ۔ماہرینِ غذائیات کے بقول بالغ افراد کے لیے 50گرام اور بچوں کے لیے 25گرام روزانہ استعمال ان کی روز کی بیش تر غذائی ضروریات پوری کر دیتا ہے ، صحت میں نمایاں بہتری لاتاہے اور اس کے استعمال سے ذہانت میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ ایک چمچ روزانہ کا استعمال بلند فشارِ خون ،ذیابطیس، جسمانی کمزوری اور دیگر امراض میں مفید ہے ۔ خشک پتوں کی چائے بہت مفید ہے جو دماغی اور جسمانی قوت کی بحالی اور کم خوابی کی شکایت دورکرنےکے لیے دنیا بھر میں استعمال کی جاتی ہیں۔علاوہ ازیں اس درخت کے تازہ پتوں کا نچوڑ فصلوں کے لیے ایک عمدہ قسم کا گروتھ ہارمون ہے ۔
تیل بھی معیاری
سُہنجنا یا مورنگا کا درخت دو سے تین سالوں میں بیج دینا شروع کر دیتا ہے ۔ایک درخت سے تین تا چار کلو گرام بیج حاصل ہوتے ہیں اور ایک کلو بیج سے تقریباََ ایک پاؤ تیل نکلتا ہے ۔یہ تیل معیار میں بہت عمدہ اور زیتوں کے تیل کے برابر ہوتا ہے اور اسے کھانے کے تیل کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ یہ میک اپ کے سامان کی تیاری اورمنہگی گھڑیوں میں بہ طور لبریکنٹ بھی استعمال ہوتاہے ۔پکانے کے دوران یہ دیگر تیلوں کی نسبت زیادہ دیر تک قابل استعمال رہتا ہے اور نہ صرف کھانے کو لذیذ بناتا ہے بلکہ جسم میں قوت مدافعت بھی پیدا کرتا ہے ۔ اسے برآمد کر کے کثیرزر مبادلہ بھی کمایا جا سکتاہے،کیوں کہ یہ دنیا کا منہگا ترین تیل ہے ۔
غذائیت کے لحاظ سے بیش قیمت
غذائیت کے لحاظ سے یہ درخت بہت قیمتی اور کرشماتی خصوصیات کاحامل ہےاس کےمختلف حصوں میں تقریباً 92 غذائی اجزا یعنی نیوٹرینٹ اور 46 قدرتی اینٹی آکسیڈنٹ (مانع عملِ تکسید مادے) موجود ہیں ۔بیجوں سے تیل نکالنے کے بعد کھلی سے پانی صاف کرنےکا کام لیا جا سکتا ہے۔ویسے پانی صاف کرنے کے لیے بیجوں کو خشک کر کے ان کے چھلکوں کو ہلکا ہلکا کوٹ کر اتار لیا جاتا ہے۔حاصل ہونے والی گِری کو کوٹ کر سفوف تیار کیا جاتاہے۔ اس سفوف کے پچاس گرام سے ایک لٹر پانی صاف کیا جا سکتا ہے۔ سفوف کو پانی میں ڈال کر اچھی طرح ہلائیں اور تھوڑی دیر کےلیے چھوڑ دیں۔بس پینے کے لیے پانی تیار ہے۔
اس کے پتّوں کےاستعمال کے فوائد گناتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ یہ جسم کی قدرتی مدافعت ،دماغ اور آنکھوں کو غذا مہیا کرتے ہیں اور قوت بڑھاتے ہیں ۔ چہرے پر جھریوں اور باریک لکیروں کا بنناکم کرتے ، جگر اور گردے کےفعل کو فروغ دیتے ہیں، جلد کو خوب صورت بناتے،طاقت اورہاضمہ بڑھاتے ہیں۔ مخالف تکسیدی عامل  کے طور پر کام کرتے، جسم کی قوتِ مدافعت بڑھاتے ،صحت مند خون کے نظام کو فروغ دیتےاور سوزش کو روکتے ہیں۔صحت مندی کا احساس دلاتے، جسم میں شکر کی سطح مناسب حد تک قائم رکھتے ہیں۔
ان پتوں میں مخالف تکسیدی عامل  کی بھاری مِقدار مع بِیٹا کروٹین ،کرسٹین موجود ہوتی ہے۔ ان میں موجود کلورو جینک ایسڈ شکر جذب کرنے کی رفتار کو کم کرتا ہےجس سے خون میں شکر کی سطح کم ہوتی اور ذیابطیس کے مرض میں بہتری آتی ہے۔ پتے،پھلیاں اور بیج جَلَن کو کم کرتے ہیں،چنانچہ  معدے کے السر کے علاج میں مُفیدہیں۔ اس کا میٹھا تیل تَلنے کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ تیل فَنگس اور آرتھرائٹس  کے علاج کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ کولیسٹرول کوصحت مند حدود میں رکھتا ہےاور سنکھیا کے جسم میں جانےسےپیدا ہونے وا لے طبی مسائل کے علاج میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ صر ف یہ ہی نہیں بلکہ یہ ایسے خامرے اور کیمیائی اجزاپر مشتمل ہے جو دماغ کو بھرپور صحت دیتا، بینائی تیزکرتا، یادداشت میں بہتری لاتا، دماغی سکون فراہم کرتا، اور ڈپریشن سے نجات دلاتا ہے۔

No comments:

Post a Comment

عمر شریف فنی کمنڑی

 

Post Bottom Ad